ابنا: منامہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق ايسي حالت ميں کہ ملک کے مختلف علاقوں ميں آل خليفہ کے خلاف عوامي مظاہروں ميں تيزي آگئي ہے، حکومت نے جمعيت وفاق ملي کے ڈپٹي سيکريٹري جنرل کے نام پوليس اسٹيشن ميں حاضر ہونے کا نوٹس جاري کيا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اس نوٹس ميں جمعيت وفاق ملي کے ڈپٹي سيکريٹري جنرل خليل المرزوق سے کہا گيا ہے کہ وہ البديع کے پوليس اسٹيشن ميں حاضري ديں۔رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ يہ نوٹس سياسي کارکنوں کي سرگرمياں محدود کرنے کي پاليسي کے تحت جاري کيا گيا ہے ۔ حکومت بحرين کے مخالفين کا کہنا ہے خليل المرزوق کو يہ نوٹس سيار نامي علاقے ميں ان کي سات ستمبر کي تقرير پر جاري کيا گيا ہے ۔ اس تقرير ميں انہوں نے کہا تھا کہ جو بھي چودہ فروري نامي انقلابي اتحاد کو دہشتگرد کہتا ہے وہ خود دہشتگردي کا مظہر ہے۔ايک رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ آل خليفہ حکومت نے معروف عالم دين آيت اللہ شيخ حسين النجاتي کو ملک سے نکل جانے کا حکم ديا ہے مگر ان کے دفتر نے اعلان کيا ہے کہ وہ بدستور ملک کے اندر موجود ہيں اور يہاں سے جانے کا کوئي ارادہ نہيں رکھتے ۔ بحرين کے ايک رہنما شيخ ميثم السلمان نے کہا ہے کہ آيت اللہ نجاتي ايک قومي اور اسلامي ہستي ہيں اور انہيں ملک سے نکالنے کي کوشش قومي اتحاد و يک جہتي کو ختم کرنے کي غرض سے کي جارہي ہے ۔ انہوں نے آل خليفہ حکومت کي پاليسيوں کو انساني حقوق کے عالمي اعلاميئے کے منافي قرار ديا ۔......./169
17 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 464419
بحرين ميں آل خليفہ حکومت کي جانب سے عوام کي انقلابي تحريک کي سرکوبي کي پاليسي جاري ہے ۔